Circle Image

Poet Sagar Haider Abbasi

@@1986

عاجزی اوڑھ کے جو خود کو جھکایا میں نے
لوگ کم ظرف تھے اتنے کہ خدا بن بیٹھے
شاعر ساگر حیدر عباسی

0
6
نثروں سے مری نطمیں بناتے تھے جو
اب درس مجھے اردو کا دیتے ہیں وہ
© ساگر حیدر عباسی

0
10
ہر اک انسان کو دنیا سے اک دن تو بچھڑنا ہے
یہ دنیا چھوڑ کر اک روز مٹی میں اترنا ہے
جو پتے آج شاخوں پر بڑے خوش رنگ لگتے ہیں
انہیں بھی وقت کی آندھی میں اک دن تو بکھرنا ہے
© ساگر حیدر عباسی

0
17
بہت معصوم لگتے ہو کبھی الفت نہ کرنا تم
کہ پنچھی قید میں آ کر چہکنا بھول جاتے ہیں
شاعر ساگر حیدر عباسی

15
تیرے ہی سبب سے تھیں زندگی میں رونقیں
اب تو جو نہیں تو ویرانی ٹلتی ہی نہیں
© ساگر حیدر عباسی

0
11
غمِ جدائی کے زخم اب سینا چاہتا ہوں
ہو زہر چاہے ہو جام میں پینا چاہتا ہوں
بہت ہوں گے ان حسین آنکھوں پہ مرنے والے
میں تیری آنکھوں میں ڈوب کر جینا چاہتا ہوں
شاعر ساگر حیدر عباسی

0
12
کوئی غمخوارِ سفر ساتھ اگر ہو ساگر
زندگی راہ کے کانٹوں کو بھلا دیتی ہے                             
 © ساگر حیدر عباسی

0
14
سکونِ دل کی خاطر میں تمہارا نام لکھتا ہوں
لکھا جب نام پڑھتا ہوں تو پلکیں بھیگ جاتی ہیں
کسی سے جب بھی ملتا ہوں تو میں ہنس کے ہی ملتا ہوں
مگر جب خود سے ملتا ہوں تو پلکیں بھیگ جاتی ہیں
سحر کی روشنی میں جب پرندے گیت گاتے ہیں
انہیں حسرت سے سنتا ہوں تو پلکیں بھیگ جاتی ہیں

0
6
کسی کی حسرتیں دل سے مٹا کر کچھ نہیں ملتا
کسی کا دل مری جاناں دکھا کر کچھ نہیں ملتا
جہاں آندھی کا چَرچا ہو جہاں بارش کی رم جھم ہو
وہاں پر مٹی کے یہ گھر بنا کر کچھ نہیں ملتا
یہاں پر ساتھ مطلب کے سوا کوئی نہیں دیتا
امیدیں بھی یہ لوگوں سے لگا کر کچھ نہیں ملتا

0
20
یہ شہر جو روشن ہے دیکھو یہ خود ہی منور کب ہوتا
گھر میرا اگر نہیں جلتا تو ہر سو یہ اجالا کب ہوتا
کب شمع سے شکوہ ہے کوئی یا جلتے ہوئے پروانے سے
جو آگ لگی میرے گھر کو دنیا کی کدورت لگتی ہے
میں خاک نہیں اک چنگاری جو سینۂ شب میں پلتی ہے
اک مردِ عمل کی خاموشی تقدیر کے رخ کو بدلتی ہے

5
تمہارے ساتھ میں نے جو کبھی لمحے گزارے تھے
وہ لمحے سوچ لوں گر میں تو صدیاں بیت جاتی ہیں
شاعر ساگر حیدر عباسی

0
16
یہ آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تمہاری یاد آنے سے
تمہیں جب یاد کرتے ہیں زمانے بیت جاتے ہیں
شاعر ساگر حیدر عباسی

0
13
تری یادوں کے صحرا میں کبھی جب ہم نکلتے ہیں
کبھی روتے ہیں چپکے سے کبھی ہنس کر بہلتے ہیں
تری خاطر سجائے تھے جو خوابوں کے حسیں موسم
وہی اب درد بن کر دل کے اندر روز پلتے ہیں
سنا ہے لوگ مرتے ہیں فقط اک بار الفت میں
مگر ہم ہیں کہ ہر لمحہ ترے غم میں مچلتے ہیں

0
26
زمانے سے دل لگایا، مجھ سے لگا ذرا
وفاؤں کو میری بھی کبھی آزما ذرا
ترا ساتھ چھوڑ کر نہیں جاؤں گا کہیں
تو کر کے بھروسہ مجھ پہ، رشتہ نبھا ذرا
میں بجھنے کبھی نہ دوں گا تیرا چراغِ دل
تو راہِ وفا میں دیپ کوئی جلا ذرا

0
19
اک لفظ کو دل سے کہنے میں سو زخم اٹھانے پڑتے ہیں
اک شعر غزل کا لکھنے میں سو درد جگانے پڑتے ہیں
آخر میں جو بھی شعر نکلتا ہے دل کی گہرائی سے
اس شعر کے پیچھے کتنے ہی افسانے چھپانے پڑتے ہیں
اک شخص کی خاطر اکثر کیا کیا کچھ سہنا بھی پڑتا ہے
کچھ رشتے نبھانے کی خاطر کچھ خواب گنوانے پڑتے ہیں

0
19
عشق میں ہر ایک اذیت کو بھی سہنا پڑتا ہے
درد جب حد سے بڑھے تو لب سے کہنا پڑتا ہے
دل میں گھٹنا پڑتا ہے آنکھوں سے بہنا پڑتا ہے
چند لمحے جینے کو صدیوں کو سہنا پڑتا ہے
© شاعر: ساگر حیدر عباسی

0
31
خواب آنکھوں میں اگر عزمِ جواں ہو جائے گا
خاک کا ذرّہ بھی اک روز آسماں ہو جائے گا
اپنی ہستی کو ذرا پہچان لے اے آدمی
تو اگر بیدار ہو، روشن جہاں ہو جائے گا
جو ترے سینے میں پنہاں ہے اسے بیدار کر
تیرا چپ رہنا بھی پھر حرفِ بیاں ہو جائے گا

26
شیشَۂ دل ہوں، سنبھل کر ہی اٹھانا مجھ کو
بے دھَیانی میں کہیں توڑ نہ جانا مجھ کو
میں بکھر جاؤں تو پھر جمع نہ ہو پاؤں گا
اتنی آسانی سے ہرگز نہ گنوانا مجھ کو
ایک مدت سے ہوں خاموش دعا کی صورت
اپنی آواز میں اک بار بلانا مجھ کو

0
55