کیوں صحنِ حرم تکتی ہے تہلیل کی راہیں
یہ اہلِ دُوَل پھرتے ہیں قابیل کی راہیں
جس قوم کی تعداد پہ امید ہے تجھ کو
گھر بیٹھ کے تکتی ہے ابابیل کی راہیں

0
5