اپنے اپنے مطلب والے، کیسے کیسے سیانے لوگ
درد ہمارا کیا سمجھیں گے، دنیا کے یہ بیگانے لوگ
ہم سے پوچھا حالِ دل تو، ہم نے ہنس کر ٹال دیا
آئے تھے ہم پہ ہنسنے والے، کچھ جانے پہچانے لوگ
اُس کی گلی سے لوٹ کر آئے دل کو اور اُداس کیے
مجھ کو دیکھ کے ہنسنے والے پوچھ رہے تھے فسانے لوگ
تنہا بیٹھے سوچتے ہیں اب، ہم سے ایسی کیا بھول ہوئی
وقت پڑا تو اپنے بھی ہو گئے، سارے انجانے لوگ
ساگر ہم کو چھوڑ گیا وہ جب اس کو نئے یار ملے
اُس کو مل گئے یار نئے ہم آخر ٹھہرے پرانے لوگ
شاعر ساگر حیدر عباسی

0
6