| کروں میں تذکرہ پُر درد واقعے کا ابھی |
| تو تھام لو سبھی اپنے جگر کو دل کو بھی |
| نہ سن سکو گے کہ سننے کو چاہیے ہمت |
| یہ بات پیارے نبیؐ کے ہے نواسے کی |
| جو آ گیا ہے محرّم تو یاد آئے وہ |
| دیارِ غیر میں گزری تھی جن پہ ان ہونی |
| ہمیں ہیں جان سے پیارے حسینؑ ابنِ علیؑ |
| رہِ خدا میں رضا سے تھی جاں جنہوں نے دی |
| اُنہیں تھی حق کی طرف سے عطا محبتِ دیں |
| نہ چاہتے تھے کہ دنیاوی ہو یہ منصب بھی |
| وہ جانتے تھے خلافت خدا کی مرضی ہے |
| نہ جانے پائے غلط ہاتھ میں یہ رُتبہ کبھی |
| مگر یزید حکومت کا لالچی تھا بہت |
| تھی اُس کو فکر کہاں پر خدا کی مرضی کی |
| بلایا دھوکے سے معصومؑ کو بصد عزت |
| مگر تھی اصل میں نیّت انہیں مٹانے کی |
| کِیا بھروسہ اُنہوں نے خدا کی خاطر تھا |
| نہ اپنے بچوں کا سوچا نہ اپنا سوچا کبھی |
| وہ چاہتے تھے نہ ہو کُشت و خون مذہب میں |
| وہ چاہتے تھے کہ دیں میں نہ ہو خرابی بھی |
| اسی لیے تو وہ معصوم ؑ لے کے بچوں کو |
| چلے کہ شاید اس سے ہو بہتری کوئی |
معلومات