ایک دروازہ مرے وہم و یقیں پر رکھ دو
ایک رستہ کسی ان دیکھی زمیں پر رکھ دو
میں نے اک عمر سنبھالا ہے شکستوں کا حساب
اب یہ دفتر بھی کہیں دور وہیں پر رکھ دو
کچھ تعلق بھی دلیلوں سے پرے ہوتے ہیں
ایک کھڑکی سی مگر اپنے یقیں پر رکھ دو
وہ جو اک نام مرے ہونٹ تک آتا ہی نہیں
اس کو خاموشی کی تہہ میں ہی کہیں پر رکھ دو
جس کو سجدوں میں بھی کہنا نہیں آیا شاہدؔ
اس دعا کو مری خاموش جبیں پر رکھ دو

0
3