| ایک دروازہ مرے وہم و یقیں پر رکھ دو |
| ایک رستہ کسی ان دیکھی زمیں پر رکھ دو |
| میں نے اک عمر سنبھالا ہے شکستوں کا حساب |
| اب یہ دفتر بھی کہیں دور وہیں پر رکھ دو |
| کچھ تعلق بھی دلیلوں سے پرے ہوتے ہیں |
| ایک کھڑکی سی مگر اپنے یقیں پر رکھ دو |
| وہ جو اک نام مرے ہونٹ تک آتا ہی نہیں |
| اس کو خاموشی کی تہہ میں ہی کہیں پر رکھ دو |
| جس کو سجدوں میں بھی کہنا نہیں آیا شاہدؔ |
| اس دعا کو مری خاموش جبیں پر رکھ دو |
معلومات