ہر کہکشاں میں ستاروں میں ڈولتا ہے علی
فلک کے بند دریچوں کو کھولتا ہے علی
جو بارگاہِ علی میں فقیر آ بیٹھے
خدا کے راز کو باتوں میں کھولتا ہے علی
زبان کاٹ کے بولے کہ اب تو بول علی
تو میرے دل نے کہا دل میں بولتا ہے علی
میں چپ رہوں بھی تو مولا مرا سمجھتا ہے
تمام فکر کے میزان تولتا ہے علی
جہاں پہ عقل بھی پہنچے نہ ایک پل کے لیے
وہیں سے راہِ یقیں کو ٹٹولتا ہے علی
شرابِ ساقیِ کوثر نہیں ہے یہ ساگر
لبوں پہ رمزِ خدا میرے گھولتا ہے علی

0
3