| انصاف بکے گا پیسوں میں جب منصف ہو گا چور یہاں |
| پھر خواب رہا ہے خواب رہے گا، ہو جمہور کا زور یہاں |
| سب چور یہاں مل کھاتے ہیں، مزدور کی محنت کا پیسہ |
| پھر آخر اک دن چوروں کو بھی پڑ جاتے ہیں مور یہاں |
| ایوان میں ایسے چیختے ہیں جیسے یہ مچھلی منڈی ہو |
| سب ایک ہوئے ہیں اندر سے، اوپر سے مچائیں شور یہاں |
| جب گیس نہیں ہے چولہے میں، اور آٹا چاول مہنگے ہیں |
| مزدور یہاں پر بھوکے ہیں، سب ییں زندہ درگور یہاں |
| یہاں پھول گلاب نہیں کھِلتے یہ باغ نہیں یہ مقتل ہے |
| دنیا میں کہیں پہ نہیں ہوتا، ہوتا ہے جیسا جور یہاں |
معلومات