انصاف بکے گا پیسوں میں جب منصف ہو گا چور یہاں
پھر خواب رہا ہے خواب رہے گا، ہو جمہور کا زور یہاں
سب چور یہاں مل کھاتے ہیں، مزدور کی محنت کا پیسہ
پھر آخر اک دن چوروں کو بھی پڑ جاتے ہیں مور یہاں
ایوان میں ایسے چیختے ہیں جیسے یہ مچھلی منڈی ہو
سب ایک ہوئے ہیں اندر سے، اوپر سے مچائیں شور یہاں
جب گیس نہیں ہے چولہے میں، اور آٹا چاول مہنگے ہیں
مزدور یہاں پر بھوکے ہیں، سب ییں زندہ درگور یہاں
یہاں پھول گلاب نہیں کھِلتے یہ باغ نہیں یہ مقتل ہے
دنیا میں کہیں پہ نہیں ہوتا، ہوتا ہے جیسا جور یہاں

0
16