سجدوں میں پڑا در پہ پشیمان ہوں مولا
حالت ہوئی اپنی پہ پریشان ہوں مولا
آنکھوں میں جلن سینے میں خاموش ہے طوفاں
بے حس ہوں پڑا فکر میں بے جان ہوں مولا
رحمت کا ہوں طالب میں جو دشوار ہے منزل
کر دے اسے آساں ترا احسان ہے مولا
قابل ہے ستائش کے تو معبود ہے میرا
اللہ تری اس شان پہ قربان ہوں مولا
قادر ہے تو ہر چیز پہ خالق ہے خدایا
اک تیری بڑائی کا میں اعلان ہوں مولا
مفلس کے بدن کو ہے کسی پردے کی ضرورت
مجھ پر ہو کرم چاک گریبان ہوں مولا
ہر شے سے مقدم ہے تو شاہد کی نظر میں
غلطی کا میں پتلا ہوں میں انسان ہوں مولا

0
1