| مجھے جو چھوڑنا چاہے اسے میں چھوڑ دیتا ہوں |
| مرا دل توڑنے والے کا، میں دل توڑ دیتا ہوں |
| سفر میں ہم سفر گر ساتھ دینے پر نہ راضی ہو |
| تو میں اپنی مسافت کو نیا اک موڑ دیتا ہوں |
| ہزاروں منزلیں لوگوں نے بدلی ہیں مگر میں تو |
| نگاہیں اک جگہ جب جوڑ دوں تو جوڑ دیتا ہوں |
| مرا دل روٹھ جائے تو منانا پھر نہیں ممکن |
| جسے اس کی نہ ہو پروا، اسے خود چھوڑ دیتا ہوں |
| وفا کی خوبیاں ایسے بیاں کرتا ہوں شدت سے |
| جہاں کے بے وفاؤں کو بھی میں جھنجوڑ دیتا ہوں |
| ادھورے خواب آنکھوں کو بڑی تکلیف دیتے ہیں |
| نہ ہو تعبیر جن خوابوں کی ان کو پھوڑ دیتا ہوں |
معلومات