| مجھے آواز دیں گے وہ مری تصویر ڈھونڈیں گے |
| کبھی ٹوٹے ہوئے خوابوں کی جب تعبیر ڈھونڈیں گے |
| ستاروں میں نہیں ہوگا اگرچہ نام یوں لیکن |
| اندھیروں میں مری لکٌھی ہوئی تحریر ڈھونڈیں گے |
| سمندر ہوں کروں اظہار اپنی پیاس کا کیسے |
| فقط مجھ میں ہی میری ذات کی تقسیر ڈھونڈیں گے |
| میری سانسیں جو چلتی ہیں مجھے زندہ وہ سمجھیں گے |
| مجھے پھر قتل کرنے کو وہ اک شمشیر ڈھونڈیں گے |
| تمناؤں کے گھر جو ٹوٹتے ہیں ٹوٹ جانے دو |
| کہاں ہم دل میں ان کے واسطے جاگیر ڈھونڈیں گے |
| اگر پھر دل پہ گہرا زخم کوئی اور ہوتا ہے |
| تو ہم احباب کے ہاتھوں میں ہی اب تیر ڈھونڈیں گے |
| ان اشکوں کی نمایش کا علم اب فایدہ کیا ہے |
| یہ دنیا والے تو بس درد کی تفسیر ڈھونڈیں گے |
معلومات