مِری بیٹی مِرے مالک کی نعمت
رہے اُس پر سدا تیری یہ رحمت
کبھی اُس کے قدم کو غم نہ پائے
مِلے اُس کو زمانے کی مسرت
مِلے اُس کو سدا دانش کی دولت
رہے روشن سدا اُس کی ذہانت
پڑھائی جب مکمل ہو تو یارب!
نصیب اُس کو ترقی کی سعادت
حیا اُس کی نگاہوں میں سجی ہو
رہے قائم سدا اُس کی شرافت
عطا کر تُو اُسے صحت، خدایا!
عطا اُس کو سدا جینے کی راحت
بچا حاسد کی نظروں سے ہمیشہ
نہ آئے اُس کی جانب کوئی آفت
مِلے اُس کو جہاں میں نیک نامی
نہ دیکھے زندگی میں وہ مصیبت
چمکتا ہی رہے اُس کا مقدر
بڑھے اُس کے یقیں میں اور طاقت
سدا بستا رہے اُس کا گھرانہ
رہے اُس پر سدا رب کی حفاظت
دعائے شادؔ ہے پروردگارا!
سدا اُس پر رہے تیری عنایت

0
5