تجھ کو تیرا دکھ مجھ کو میرا دکھ
دونوں کا ہے کتنا گھنیرا دکھ
ہے غریب لاچار کے لئے
دن کا نور شب کا اندھیرا دکھ
سچ کہوں تو سارے جہاں میں ہے
ہر مقام دکھ ہر بسیرا دکھ
کیا خبر یہ اور کتنا لوٹے گا
لوگوں کے سکوں کو لٹیرا دکھ
اب تو ڈس رہا ہے سبھی کو یہ
بن کے سانپ ظالم سپیرا دکھ

0
50