| تھا ایک شخص مرے واسطے کمال کچھ اور |
| وہ مجھ کو ٹھیک سے سمجھا مرا تھا حال کچھ اور |
| مجھے خبر تھی کہ دنیا بدل نہیں سکتی |
| مگر جو دل میں رہا وہ بھی تھا خیال کچھ اور |
| وہ مجھ سے دور رہا پھر بھی میرے پاس رہا |
| یہ فاصلہ ہی نہ تھا دل کا تھا ملال کچھ اور |
| میں اپنے آپ کو ہر روز ڈھونڈتا ہی رہا |
| مرا سفر نہ کٹاچاہا تھا وصال کچھ اور |
| وہ مسکرا کے ملا تو لگا حسین بہت |
| مگر نگاہ میں پوشیدہ تھا جمال کچھ اور |
| تمام عمر جسے ہم نے عشق سمجھا تھا |
| وہ ایک عمر کا شاید رہا زوال کچھ اور |
| وہ لوگ جیت گئے جو شکست کھا کے بھی |
| کھڑے رہے کوئی پوچھے گا ان کا حال کچھ اور |
| چراغ لے کے اندھیروں میں جو نکل آیا |
| اسی کی دست برد میں رہا کمال کچھ اور |
| تمام عمر رہے اپنی دُھن میں ہی طارِق |
| ملے جواب بہت تھے مگر سوال کچھ اور |
معلومات