| فوجِ صفین سے بھاگو کی صدا آئی ہے |
| تیغِ عباسؑ جو ان سب کی قضا لائی ہے |
| ہلکی سی غازیؑ نے گھوڑے پہ جو انگڑائی لی |
| اور زِرہ ٹوٹ کے پھر خاک پہ اس دم تھی گِری |
| تیغ بھی جوش میں لینے لگی انگڑائی ہے |
| منھ کو ڈھانپے ہوئے چلتے رہے دشمن کی طرف |
| تیغ لہرائی تو یاد آگئے پھر شاہِ نجف |
| سر پہ تلوار وہ بجلی کی طرح آئی ہے |
| ایساحملہ ہے کیا سربھی بدن بھول گئے |
| اور لعیں دیکھو کہ دینا بھی کفن بھول گئے |
| بھاگو بھاگو کے قیامت کی گھٹا چھائی ہے |
| ہر طرف شور تھا میدان میں آئے ہیں علیؑ |
| مارتا ایسے ہے جیسے کے بپا قہرِ جلی |
| موت بھی دیکھ کہ اس شیر سے گھبرائی ہے |
| کرتے تعریف رہے دیکھ کہ حملے کو حسینؑ |
| چیر کے رکھ دیا لشکر کو ملا دل کو چین |
| ہاتھوں سے اسکے سزا ظالموں نے پائی ہے |
| مولا حسنینؑ نے پھر پاس بلا کر یہ کہا |
| بازو کو چوم کے سینے سے لگا کر یہ کہا |
| بھائی عباسؑ کے جیسے نہ کوئی بھائی ہے |
| کیسا منظر بھی بنا ہوگا وہ سوچو صائب |
| چاند سورج کو ذرا ساتھ ملا دو صائب |
| لازمی اس جگہ بس نور کی یکتائی ہے۔ |
معلومات