بقا ہوں میں محبت کی وفا سے
یہ سیکھا ہوں محمد مصطفیٰ سے
کہا نانا نے حق پر جان دینا
میں گذرا ہوں اسی کی انتہا سے
سوا حق کے جھکانا ہی نہیں سر
"صدا آتی ہے اب بھی کربلا سے"
مجھے امّی كئے امت پہ قرباں
كٹا ہوں میں اسی وعده نبھا سے
ذکیؔ تو دل بنا لے اپنا کربل
ملا کر آ حسینِ مجتبیٰ سے

0
4