| ختم تم پر زبان دانی ہے |
| کون تم سا مہا گیانی ہے |
| زندگی تو فقط جوانی ہے |
| اور جو کچھ ہے بس کہانی ہے |
| بات کتنی یہ بے معانی ہے |
| روح باقی ہے جسم فانی ہے |
| اتنا مت حسن پر تو ہو نازاں |
| دولتِ حسن آنی جانی ہے |
| نکلے پڑتے خوشی سے ہیں آنسو |
| باعثِ غم کہ شادمانی ہے |
| مجھ کو معلوم خود نہیں اب تک |
| آپ کو بات جو بتانی ہے |
| پوچھ مت حسن و عشق کی بابت |
| ایک ہے آگ ایک پانی ہے |
| کون ڈالے بھلا لگام اس کو |
| کتنی منہ زور یہ جوانی ہے |
| آپ سے دوستی بھلے ہو نئی |
| آپ سے دشمنی پرانی ہے |
| غم کا سورج سوا ہے نیزے پر |
| اور قیامت کی کیا نشانی ہے |
| اشک ہے دل میں تو ہے سرمایہ |
| ڈھل گیا آنکھ سے تو پانی ہے |
| وصل کی شب کا پھر ہو کیا عالم |
| وصل کی شام جب سہانی ہے |
| خاک جل جل کے سب ہیں پروانے |
| شمع رو رو کے پانی پانی ہے |
| عشق کہتے ہیں جس کو اے قادر |
| ایک آفت یہ آسمانی ہے |
معلومات