دل میں روشن ہوئی وفا بھی ہے
اور سینے میں اک خلا بھی ہے
تیری آنکھوں میں ہے یہ کیا جادو
ان میں دریا بھی اک دعا بھی ہے
عشق میں خود کو ہم بھلا بیٹھے
اس خسارے میں اک عطا بھی ہے
تیری خاموشیوں کے پردے میں
ان کہی سی کوئی صدا بھی ہے
ہم نے دنیا سے یہ بھی سیکھ لیا
بے غرض ہونا اک سزا بھی ہے
خود سے ملنے کی اب گھڑی آئی
فاصلہ بھی ہے راستہ بھی ہے
طارق اس دل کی ہے عجب دنیا
درد بھی ہے کہیں شفا بھی ہے

0
4