درد میرے دوا تو کر لیتے
جھوٹ ہی پر وفا تو کر لیتے
چھوڑنا چاہتےتھےمجھ کو بھی
عشق کیوں کچھ نیا تو کر لیتے
رستے یادوں کے ہیں ابھی باقی
اچھےسےسب جدا تو کر لیتے
بے وفائی تو ٹھیک سے کرتے
حق اسی کا ادا تو کر لیتے
مر گیا تیرے عشق میں وہ جب
فرض تھا تم دعا تو کر لیتے
میرے دٌکھ میں سکون تھا تیرا
خود کو تم شفا تو کر لیتے
یہ ترےخون میں ہی شامل تھی
ڈھنگ سے تم جفا تو کر لیتے
تم خفا ہو چکے مگر مجھ سے
یاد اپنی خفا تو کر لیتے
توڑ تو نا سکے میاؔں کو تم
وقت دیتے دغا تو کر لیتے
میاؔں حمزہ

121