تقدیر ہمیشہ ہمت والوں پر مہرباں ہوتی ہے
تدبیروں سے مزید تاباں و درخشاں ہوتی ہے
ہے بزدلی اکتفا کرنا ہاتھ کی لکیروں پر فقط
قسمت تو شوق ہستی سے فروزاں ہوتی ہے
ہو سر گرم میداں میں انجام کی پرواہ بغیر
رفتہ رفتہ نصیب دولت، کامل ایماں ہوتی ہے
درکار ہے سعئ پیہم حصول منزل کے لئے
آزمائش بھی اکثر دست و گریباں ہوتی ہے
چلیں سرور سے کبھی تنہا بھی چاہ حق میں
تشنہ لب کو جیسے تلاش کارواں ہوتی ہے
گریز ہو ناصر ہمہ وقت بے مروتی سے یہاں
ملے سرخروئی گر کوشش انساں ہوتی ہے

20