| دلوں میں میرے خدا کیوں غبار باقی ہے |
| چھُپی خزاں میں تو اب بھی بہار باقی ہے |
| یہ سچ ہے وقت نے ہر موڑ پر ہرایا بھی |
| مگر شکست میں بھی اعتبار باقی ہے |
| وہ جس نے تخت الٹ کر ہی چین پایا تھا |
| اسی کے دل میں کوئی اضطرار باقی ہے |
| جو میں نے غور کیا پھر کہیں سمجھ آیا |
| مرے سفر میں ابھی اک دیار باقی ہے |
| یہ مانا بُجھ گئے سارے چراغ بستی کے |
| مگر ہے روشنی اک وہ جو پیار باقی ہے |
| یہ کون کہتا ہے دنیا تمام ہو بھی گئی |
| ابھی تو دل میں نیا انتظار باقی ہے |
| ہمیں خبر ہے کہ منزل قریب ہے اب تو |
| قدم میں یوں بھی سدا سے وقار باقی ہے |
| وہ ایک شخص جو سچ بول کر اکیلا رہا |
| اسی کے لہجے میں زندہ شرار باقی ہے |
| تمام عمر جسے ہم سمجھ نہیں پائے |
| وہ ایک لمحہ ہی شاید ہزار باقی ہے |
| نہ اپنے گِرد اندھیروں سے ہارنا طارِق |
| چراغ کم سہی لیکن شمار باقی ہے |
معلومات