| کھو گئے ہیں قافلے، عجلتوں کے شہر میں |
| طے نہ ہوں گے فاصلے، عجلتوں کے شہر میں |
| منزلیں سب کھو گئیں، بے نشاں سی راہ میں |
| تھک گئے ہیں منچلے، عجلتوں کے شہر میں |
| دشت میں ننگے قدم، بھاگنے کے جرم میں |
| پھوٹتے ہیں آبلے، عجلتوں کے شہر میں |
| سانس رکنے لگ گئی، دوڑ میں دن رات کی |
| ٹوٹتے ہیں حوصلے، عجلتوں کے شہر میں |
| گفتگو کے حرف سب، ہونٹوں پر جل گئے |
| رہ گئے ہیں لب سلے، عجلتوں کے شہر میں |
| چاند تکنے کے لیے، وقت اب ملتا نہیں |
| مٹ گئے ہیں مشغلے، عجلتوں کے شہر میں |
| اب اٹھو المیر تم، جنگلوں کی راہ لو |
| بڑھ گئے ہیں مسئلے، عجلتوں کے شہر میں |
معلومات