مبارک ہو جہاں والو حبیبِ کبریا آئے
مچی دھومیں جہاں بھر میں کہ لعلِ آمنہ آئے
حلیمہ ناز کرتی ہیں حسیں آئے ہیں گودی میں
سجانے دین سے دنیا نبی نورِ ہدیٰ آئے
ہدایت کا ملے رستہ نبی مُہرِ رسالت سے
لئے قرآن ہاتھوں میں محمد مصطفیٰ آئے
سخی کوثر کے ساقی ہیں سخی جنت کے والی ہیں
چمن سارا دہر کا بھی سجانے دلربا آئے
نبی رحمت جہانوں میں عطائے کبریا سے ہیں
نبی خُلقِ عظیم آقا مریضوں کی شفا آئے
سہارا ہیں غریبوں کا سخی داتا نبی سرور
محبت کی زباں بن کر کریمِ دو سریٰ آئے
بڑی خوشیاں جہاں والو ورودِ مصطفیٰ کی ہیں
سجے محمود سب رستے نبی صلے علیٰ آئے

2
11
مختصر خلاصہ برائے اشاعت

یہ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ آمدِ مصطفیٰ ﷺ کی خوشی، آپ ﷺ کی رحمت، ہدایت، سخاوت اور خلقِ عظیم کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔ اشعار میں ولادتِ باسعادت کی عالمگیر مسرت، حضرت حلیمہؓ کی خوشی، قرآن و ہدایت کی روشنی، اور آپ ﷺ کے غریبوں کے سہارا، ساقیِ کوثر اور شفیق و کریم ہونے کا عقیدت مندانہ ذکر ہے۔ اختتام پر شاعر محمود ورودِ مصطفیٰ ﷺ کی خوشی میں عالم کو مسرت اور راستوں کو سجانے کی کیفیت بیان کرتا ہے۔

0

یہ نعتِ پاک ﷺ حضور اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی خوشی اور آپ ﷺ کی رحمت و ہدایت کو عقیدت کے پھول پیش کرتی ہے، جس میں سیرتِ طیبہ کے مختلف اوصاف نہایت محبت و احترام سے بیان کیے گئے ہیں۔

0