اخلاق و عمل کے پیکر ہیں وہ فخرِ چمن مولانا رفیق
اور علم و ہنر کے محور ہیں وہ تاجِ سُخَن مولانا رفیق
الفاظ میں موتی بکھرے ہیں، انوارِ ہُنَر بھی نکھرے ہیں
ہر حرف سے چشمے ابھرے ہیں، وہ علمی گَگَن مولانا رفیق
لہجے میں خوشی کا نغمہ ہے، ہنس ہنس کے پڑھانا شیوہ ہے
نورانی سا روشن چہرہ ہے، وہ مشک خُتَن مولانا رفیق
ہر گام سبھی سے الفت ہے، ہر طالبِ فن پر شفقت ہے
ہر قلب میں جن کی عظمت ہے، وہ سایہ فِگَن مولانا رفیق
ہر فعل اصولوں پر مُحکَم، ہر خیر میں بھی کوششْ پَیہَم
حق بات کا ہاتھوں میں پرچم، وہ حق کی کِرَن مولانا رفیق
کیا عشقِ نبی، کیا دینی شَغَف، اور زُہد و وَرَع میں طَرزِ سَلَف
ہر شام و سَحَر بس عِزّ و شَرَف، وہ نورِ زَمَن مولانا رفیق
امت کے غموں کو وہ شب بھر، ہیں رب کو سناتے رو رو کر
اشکوں سے دَہَن کو دھو دھو کر، وہ غم میں مَگَن مولانا رفیق
تجھ کو جو مُنَوَّر فیض ملا، کیا خوب ترا یہ بَخْتْ کُھلا
تو ناز کرے کیوں کر نہ بھلا، وہ نازشِ فَن مولانا رفیق

0
5