کونین کی تابانی کا راز مدینہ ہے
جو شہرِ منور ہے ہستی میں نگینہ ہے
کیا خوب سحر اس کی ہے رات بھی نورانی
اس دارِ درخشاں پر انوار کی برکھا ہے
اب دل میں جو حسرت ہے دیدار ہے سرور کا
خوابوں سے اٹھوں کہتا سرکار کو دیکھا ہے
اے نورِ خدا دلبر یہ سینہ بھی روشن ہو
یہ آنکھ بھی دیکھے وہ جو نور سراپا ہے
جو حسنِ نبی سے ہے کونین میں ہر زینت
اس تابشِ صورت سے ہر سمت اُجالا ہے
جب وقتِ نزع آئے سرکار چلے آنا
پھر دیکھے نظر میری یہ روپ جو اعلیٰ ہے
ہر آن حزیں دل میں سرکار کی یادیں ہیں
میں اس لئے جیتا ہوں دلبر کی تمنا ہے
جو درماں دکھوں کا ہے مختار ہی کرتے ہیں
محمود سکوں دل کو سرکار سے ملتا ہے

0
4