کونین کی تابانی کا راز مدینہ ہے
جو شہرِ منور ہے ہستی میں نگینہ ہے
کیا خوب سحر اس کی ہے رات بھی نورانی
اس دارِ درخشاں پر انوار کی برکھا ہے
اب دل میں جو حسرت ہے دیدار ہے سرور کا
خوابوں سے اٹھوں کہتا سرکار کو دیکھا ہے
اے نورِ خدا دلبر یہ سینہ بھی روشن ہو
یہ آنکھ بھی دیکھے وہ جو نور سراپا ہے
جو حسنِ نبی سے ہے کونین میں ہر زینت
اس تابشِ صورت سے ہر سمت اُجالا ہے
جب وقتِ نزع آئے سرکار چلے آنا
پھر دیکھے نظر میری یہ روپ جو اعلیٰ ہے
ہر آن حزیں دل میں سرکار کی یادیں ہیں
میں اس لئے جیتا ہوں دلبر کی تمنا ہے
جو درماں دکھوں کا ہے مختار ہی کرتے ہیں
محمود سکوں دل کو سرکار سے ملتا ہے

0
2
16
خلاصہ

یہ نعتیہ کلام مدینۂ منورہ اور حضورِ اکرم ﷺ کی بے مثال عظمت، جمال اور نورانیت کا نہایت دل نشین اظہار ہے۔ شاعر مدینہ کو کائنات کی روشنی اور ہستی کا قیمتی نگینہ قرار دیتے ہوئے اس کی روحانی فضیلت کو بیان کرتا ہے۔ کلام میں دیدارِ رسول ﷺ کی تڑپ، محبتِ مصطفیٰ ﷺ، اور آپ ﷺ کے نور سے دل و نگاہ کے منور ہونے کی دعا نمایاں ہے۔ شاعر حضور ﷺ کے حسنِ مبارک کو کائنات کی تمام رونقوں اور زیب و زینت کا سرچشمہ قرار دیتا ہے اور اپنی آخری سانسوں میں بھی دیدارِ رسول ﷺ کی آرزو کا اظہار کرتا ہے۔ اختتام پر یہ یقین پیش کیا گیا ہے کہ دلوں کا حقیقی سکون، غموں کا علاج، اور روحانی اطمینان حضورِ اکرم ﷺ کی محبت، نسبت اور توجہ سے ہی حاصل ہوتا ہے۔

0
خلاصہ
یہ نعتیہ کلام مدینۂ منورہ کی روحانی عظمت، حضورِ اکرم ﷺ کے نور، حسن، اخلاقِ کریمانہ اور فیضِ نبوت کا دل آویز بیان ہے۔ شاعر مدینہ کو نور و برکت کی وادی قرار دیتے ہوئے بیان کرتا ہے کہ اس کی ہر شے انوارِ مصطفیٰ ﷺ سے منور ہے۔ کلام میں یہ عقیدہ نمایاں ہے کہ حضور ﷺ کے دربار سے وابستگی انسان کی تقدیر سنوار دیتی ہے، گناہگار بھی رحمتِ نبوی ﷺ سے امیدِ بخشش پاتا ہے، اور حقیقی عزت و سعادت اسی درِ اقدس کی غلامی میں ہے۔ اختتامی شعر میں شاعر اپنے تخلص "محمود" کے ساتھ نہایت عاجزی سے اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ اس کا سب سے بڑا اعزاز حضورِ اکرم ﷺ کی محبت، نسبت اور غلامی ہے، جو اس کے لیے دنیا و آخرت کی سب سے قیمتی زینت ہے۔

0