گر ایک نظر یار کے چہرے سے ہٹے گی
محرومیِ نظّارہ سے اس آن پھٹے گی
تو جسم، جگر، دل کو مرے دیکھ جَلا کر
مٹ جائے گا سب، پھر بھی محبت نہ مٹے گی
دل جان جگر میرا جلا دے تو چِتا پر
اے جان! مری راکھ ترا نام رٹے گی
آوازِ محبت جو مرے دل سے ہے نکلی
محبوب ترے دل بھی خاموش اٹھے گی
کچھ سوچ سمجھ کر ذکؔی الفت میں جلو تم
جب شمع جلے گی تو یقیناً وہ گھٹے گی

0
1