نبی جانِ جاناں سخی مصطفیٰ
ہیں دلبر جہاں کے یہ ہستی کے شاہ
سدا نعت اُن کی لبوں پر سجے
وہ محبوبِ داور ہیں خیر الوریٰ
سکونِ دروں فیضِ یادِ نبی
ہے مسرور بردہ سخی ذات کا
وہ محشر میں جن سے شفاعت ملے
شفیعِ امم ہیں یہ خیر الوریٰ
ہیں زینت جہاں کی یہ سلطانِ دیں
یہ ہستی کے دل جاں حسیں دلربا
سجے اُن کے اوصاف سے دو جہاں
مزین اُنہی سے ہیں دونوں سریٰ
مرصع جہاں جن کے الطاف سے
ہیں ڈنکے اُنہی کےعُلیٰ سے عُلیٰ
اے محمود نامِ نبی ہے جلی
درود آئیں جن پر خدا سے سدا

0
1
7
مجموعی مفہوم:

یہ کلام نبی کریم ﷺ کی بےمثال حسن و عظمت، اللہ تعالیٰ کے قرب، اور عشقِ نبی کی گہری روحانی کیفیت کو بیان کرتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کرتا ہے کہ یہ عشق عقل سے بالاتر ہے اور اس کے بیان میں ادب اور عاجزی ضروری ہے۔

0