| کوئی کاہے سمجھے ضرورت کسی کی |
| کسی کو رہی کب ہے عادت کسی کی |
| غرور و حرص نے عجب ڈول ڈالا |
| کہاں اب رہی سچی الفت کسی کی |
| زمانہ بھی دھوکا دھڑی کا ہے عادی |
| ڈرامہ لگے اب مروت کسی کی |
| یقیں ٹوٹ جائے تو جڑتا نہیں ہے |
| نہیں کام آتی ضمانت کسی کی |
| میں تنہا کھڑا ہوں جو شہرِ وفا میں |
| نہیں راس آئی رفاقت کسی کی |
| دعا ہے مری تجھ سے پروردگارا |
| تماشہ نہ بن جائے چاہت کسی کی |
| دلوں میں محبت ابھی تک ہے زندہ |
| مگر کون سمجھے حقیقت کسی کی |
معلومات