حال دل کس کو سناؤں کوئی غمخوار رہے
دل کہاں اپنے لگاؤں کوئی دلدار رہے
.
ظاہراً مخلص و ہمدرد و وفادار رہے
دل میں خنجر کو چھپائے ہوئے عیار رہے
.
ہم تو سمجھے تھے کہ رشتہ ہے دلوں کا لیکن
وہ تو رشتوں کو سجائے ہوئے بازار رہے
.
غیر سے کیا کوئی شکوہ یا گلہ کرنا اب
میرے دشمن کے ہی جب یار مددگار رہے
.
کچھ نہ تھا میرے لئے دل میں محبت ان کی
بس مرے مال کی دولت کے طلب گار رہے
.
ہم نے کانٹوں سے نبھائی ہے محبت اپنی
پھر بھی کیوں زخم ہی پانے کے سزاوار رہے
.
اس ریا کار کی دیکھو تو وفاداری گل
جب تلک کام رہا بس وہ وفادار رہے

0
6