| حال دل کس کو سناؤں کوئی غمخوار رہے |
| دل کہاں اپنے لگاؤں کوئی دلدار رہے |
| . |
| ظاہراً مخلص و ہمدرد و وفادار رہے |
| دل میں خنجر کو چھپائے ہوئے عیار رہے |
| . |
| ہم تو سمجھے تھے کہ رشتہ ہے دلوں کا لیکن |
| وہ تو رشتوں کو سجائے ہوئے بازار رہے |
| . |
| غیر سے کیا کوئی شکوہ یا گلہ کرنا اب |
| میرے دشمن کے ہی جب یار مددگار رہے |
| . |
| کچھ نہ تھا میرے لئے دل میں محبت ان کی |
| بس مرے مال کی دولت کے طلب گار رہے |
| . |
| ہم نے کانٹوں سے نبھائی ہے محبت اپنی |
| پھر بھی کیوں زخم ہی پانے کے سزاوار رہے |
| . |
| اس ریا کار کی دیکھو تو وفاداری گل |
| جب تلک کام رہا بس وہ وفادار رہے |
معلومات