اے مولا مدینہ مجھے پھر دکھانا
ملے شہرِ جاناں میں اک آشیانہ
عطا ہو کہ دیکھوں وہ دلکش نظارہ
سجا ہے جو دل میں حسیں آستانہ
مدینے میں آؤں ملیں راہیں آساں
مدینہ ہے ارماں اے شاہِ زمانہ
خدایا درِ مصطفی آرزو ہے
مدینے میں جلدی حزیں کا ہو آنا
چلی جا رہی ہے یہ فصلِ بہاراں
رہے گا نہ دائم یہ موسم سہانا
مدینے میں گزرے شہا زندگی یہ
یہ منشا ہے میری یہ ارماں پرانا
تو محمود پر بھی کرم کر الہٰی
مدینے ہو جلدی یہ عاصی روانہ

2