رہتی ہے ماں کی محبت دنیا میں بےمثال
بے آس بن کر اہل وعیال کا کرتی ہے خیال
کہلائے عظیم الشان تحفہ مالک الملک کا
پاکیزہ آنچل بھی لگتا ہے نہایت پر جمال
چڑھتا ہے پروان پہلا مدرسہ آغوش میں
بانصیب ہو تو پھر ملے درجہ بدرجہ کمال
بن جاتی ہے خود تو قانع روکھے سوکھے پر
تاکہ اپنی اولاد کو دیکھ سکیں ہمیشہ نہال
کام آئیں ہر مشکل کے وقت ان کی دعاء
آہوں سے چھٹ جائیں غم کے بھی بادل
رہیں دراز عمر ناصر اس مورت ممتا کی
کرتے کرتے خدمت انکی ہو جنت حاصل

42