| جن سے خوشیاں ، پُر آشیانے رہے |
| نہ وہ لوگ اب نہ وہ زمانے رہے |
| ۔ |
| غمِ دل کو لگن سخن سے تھی |
| شعر ترسیل کے بہانے رہے |
| ۔ |
| یوں تو دیکھا نہیں کسی نے بھی عشق |
| کان تک کتنے ہی فسانے رہے |
| ۔ |
| ہم کو بھایا نہ یہ جہان مگر |
| کیوں یہاں دیر تک نجانے رہے |
| ۔ |
| عشق کی راہ پر نہ پاؤں رکھا |
| صرف وہ لوگ ہی سیانے رہے |
| ۔ |
| رب مناتا تھا میں تہجد میں |
| اور مصلّی شراب خانے رہے |
معلومات