| خدا نبی کا دیا سہارا، تو ہر جگہ یہ سہارا بس ہے |
| سعادتوں کی یہ انتہا ہے، خدا یہ تیرا بشارا بس ہے |
| خدا کے محبوب نوری پیکر، خدا کا بندہ، میں بندہ احقر |
| کرم کا ان کے کہاں میں قابل، کرم کا مجھ کو اُتارا بس ہے |
| نہ ان کے جیسا حبیب کوئی، خدا سے اتنا قریب کوئی |
| تَوَجَّہ اُن کی میں چاہوں کیسے، مجھے تو ادنیٰ اشارا بس ہے |
| نبی جو امّت کو اتنا چاہے، ہر ایک بندے کو بخشوائے |
| وہ ہیں محمد، ملے جو ہم کو، خدارا بس ہے، خدارا بس ہے |
| ذکیؔ نبی ہی رشیدِ حق ہیں، کہ عشق ان کا رسیدِ حق ہے |
| قصد محبت کا ذاتِ حق ہے، تو ہم کو مرشِد ہمارا بس ہے |
معلومات