گوشہ نشیں ہوں کب سے گویا نہیں ہوں میں
لیکن یہ معجزہ ہے کہ تنہا نہیں ہوں میں
جب سے ہوئی ہے دولتِ عرفاں مجھے نصیب
دنیا میں رہ کے شاملِ دنیا نہیں ہوں میں
دل میں چراغِ عشق ہے روشن ابھی تلک
حالات سے شکستہ ہوں، ٹوٹا نہیں ہوں میں
مشکل نہیں ہے دوستو تسخیرِ کائنات
افسوس اپنے آپ پہ یکسو نہیں ہوں میں
ہر صبح دے رہی ہے نیا اک سبق مجھے
اک یادگارِ عہدِ گزشتہ نہیں ہوں میں
حاصل ہے مجھ کو لذتِ توبہ خطا کے بعد
بہتر ہے آدمی ہوں، فرشتہ نہیں ہوں میں

3
28
بہت عمدہ مضامیُن ہیں ۔
قافیے میں تھوڑی چوک ہو گئی ہے۔ لیکن میں پھر کہوں گا۔ بہت عمدہ کوشش ہے۔
دل میں چراغِ عشق ہے روشن بجھا نہیں
حالات سے شکستہ ہوں، ٹوٹا نہیں ہوں میں

0
مشکور ہوں محترم نشاندہی کے لئیے
اصل مصرع کچھ یوں تھا
دل میں چراغِ عشق ہے روشن ابھی تلک
یہ متروکہ مصرع میرے ہی آدمی سے پوسٹ ہو گیا
بہت شکر گزار ہوں

0
اصلاح کے لیے پیش کرتا ہوں

0