جو بانٹتا تھا روشنی اڑا دیا گیا
چراغ امن کا تھا جو بجھا دیا گیا
ترے لیے زمیں بلال کربلا بنی
ترے لہو کو خاک میں ملا دیا گیا
یہ کون لوگ ہیں یزید کی طرح بنے
نہ جانے کیوں انہی کو اسلحہ دیا گیا
جو نفرتوں کی آگ کو بجھانے آئے تھے
انہی کو نفرتوں میں پھر جلا دیا گیا
جو امن کا عَلَم لیے نکل پڑے انہیں
فریب کار مطلبی بتا دیا گیا
لباس جن کے سبز تھے وطن کے عشق میں
انہی کا دیس میں لہو بہا دیا گیا
زیادتی کسی کے ساتھ کی نہیں مگر
ہمیں ہی پیار کا نہیں صلہ دیا گیا
شہادتوں کا سلسلہ ہے کچھ نہیں پتہ
کسی کو مار کر کہاں دبا دیا گیا
سوال کر لیا کبھی شہادتوں کا گر
تو میڈیا میں بات کو گھما دیا گیا

0
4