دیے کا جھونپڑی کے مرتبہ نہیں بھولا
اندھیرا لاکھ بڑھا حوصلہ نہیں بھولا
کسی نے زخم دیئے ہم نے پر دعا ہی دی
ہمیں تو اپنا کوئی سلسلہ نہیں بھولا
میں اپنے گھر سے چلا تھا تو ایک سچ لے کر
تمام عمر وہی راستہ نہیں بھولا
وہی تو لوگ تھے جو میرے ساتھ چل نہ سکے
اثر جو ذات کا اُن کی ہوُا نہیں بھولا
جو اپنے حصّے کی خوشبو لٹا گیا چپ چاپ
زمانہ اُس کا کبھی تذکرہ نہیں بھولا
ملی ہے خاک تو آخر اسی زمیں سے ملی
بدن جو اس سے ہوئی ابتدا نہیں بھولا
ہمیں غرور نے جب بھی چھوا تو لوٹ آئے
شجر پھلوں سے جھکا قاعدہ نہیں بھولا
ہر ایک شخص کتابِ حیات جیسا ہے
کسی نے اس کو جو پورا پڑھا نہیں بھولا
سخن میں اپنے وہی سادگی رہی طارِق
قلم جو شعر کا مقصد رہا نہیں بھولا

0
6