مرے خواب آنکھوں میں مر گئے مری نیند زیرِ عتاب ہے
جسے کھیل سمجھا ہے تو نے وہ ، مری زندگی کی کتاب ہے
نہ شرابِ غم میں خمار ہے، نہ شرابِ وصل میں ہے مزہ
مری تشنگی کا سبب فقط تری چشمِ مست کا خواب ہے
وہ جو حرفِ شوق تھا لب پہ کل، وہی آج حرفِ گریز ہے
مری خامشی میں چھپا ہوا کسی عہدِ رفتہ کا باب ہے
میں نے ترکِ عشق کا عہد کیا، تو خیالِ یار نے یہ کہا
جو چراغ دل میں جلا چکے، وہ بجھا اگر تو عذاب ہے
مرے دشتِ فکر میں دور تک کوئی نقشِ پا بھی نہیں ملا
مگر ایک سایۂ یاد ہے، جو ابھی تلک بے حساب ہے
کسی شب چراغِ خیال نے مرے دل سے پردہ اٹھا دیا
وہاں تختِ عشق بھی خاک تھا، وہاں تاجِ دل بھی خراب ہے
میں نے خاکِ کوئے صنم کو بھی سرِ چشم رکھا ہے عمر بھر
مری بندگی کا یہ فیض ہے یا مرا جنونِ ثواب ہے
مرے داغِ دل کو چھپا کے رکھ، یہ چراغِ شامِ فراق ہے
تجھے کیا خبر مری زیست کا پسِ پردہ ایک حجاب ہے
مرے خوابِ وصل کی راکھ میں، کوئی نقشِ پا تو بچا نہیں
مگر اس شکستہ مزار پر تری یاد ہے بے حساب ہے
مری آنکھ سے جو اتر گیا، وہ کبھی نہ دل سے اتر سکا
ترے بعد ہنسنا محال تھا ، ترے بعد جینا عذاب ہے
ترے شہرِ ناز کے راستے مجھے عمر بھر نہیں مل سکے
میں رکابِ وقت میں قید ہوں، مرا شوق زیرِ رکاب ہے
تری بزمِ ناز سے لوٹ کر میں نے خود کو دیکھا ہے دیر تک
مری دھڑکنیں ہیں بے ربط سی مری روح زیرِ عتاب ہے
مرے شہرِ خواب میں آج بھی کئی بام و در ہیں دھواں دھواں
مرے سامنے مرا آپ ہے پسِ آئینہ ترا خواب ہے
کسی اور در پہ جھکیں گے کیا کہ ہم اہلِ دل بھی عجیب ہیں
ترے آستاں پہ ہی مر مٹیں یہی بندگی کا نصاب ہے

0
6