جب بچھڑیں تو یادیں رہ جاتی ہیں
کچھ ادھوری باتیں رہ جاتی ہیں
چھپے جب بھی محبّت کا سورج
شامیں نفرت کی رہ جاتی ہیں
کچھ خواب سجائے آنکھوں میں
کچھ حسرتیں دل کی رہ جاتی ہیں
جو دکھے نہ جھلک تیری پل بھر
مری آنکھیں ویراں رہ جاتی ہیں

0
100