| ایک لمحہ آج مٹھی سے رہا ہو جائے گا |
| پھر ہمارا وقت شاید لاپتا ہو جائے گا |
| دل میں رہنے دو ابھی اس درد کو بے نام سا |
| نام دے دو گے تو شاید مسئلہ ہو جائے گا |
| یہ جو اک خواہش ابھی دیوار کے پیچھے چھپی |
| در کھلا تو پورا گھر اک حادثہ ہو جائے گا |
| ایک دن یہ برف آنکھوں کی پگھل جائے اگر |
| بند کمرے کا سکوت آخر صدا ہو جائے گا |
| ایک رشتہ ہے جسے لفظوں کی حاجت ہی نہیں |
| نام دے دو گے تو شاید فاصلہ ہو جائے گا |
| جو بھی کہنا ہے ابھی آنکھوں سے کہنے دو اسے |
| لب ہلے تو یہ تعلق بھی خطا ہو جائے گا |
| ہم نے ہر اک یاد کو زنجیر سے باندھا ہوا |
| کھل گئیں تو زخم اپنا پھر ہرا ہو جائے گا |
| ایک ننھا سا دیا رکھا ہے ویرانے کے بیچ |
| رات گہری ہو گئی تو حوصلہ ہو جائے گا |
| آخری صفحے پہ کچھ بھی مت لکھو جلدی میں تم |
| ایک جملہ ہی مکمل فیصلہ ہو جائے گا |
معلومات