جب ہم عشق میں مر جاتے ہیں
پھر کچھ اچھا کر جاتے ہیں
ہنستے ہنستے رو پڑتے ہیں
روتے روتے ڈر جاتے ہیں
گھر پر اپنا کچھ بھی نہیں ہے
کس مقصد سے گھر جاتے ہیں؟
سوچ سمجھ کر آگے بڑھنا
اس رستے میں سر جاتے ہیں
بے بنیاد مسائل سارے
میرے سر پر دھر جاتے ہیں
دنیا ایک مسافر خانہ
سب یاں سے فرفر جاتے ہیں
دوست نما دشمن کچھ بولے
سن کر آگے بڑھ جاتے ہیں
خواب میں چند فرشتے آ کے
مانگ میں تارے جڑ جاتے ہیں
لہراتے ،بل کھاتے پتے
پت جھڑ میں سب جھڑ جاتے ہیں
راشدہ کنول کشمیر

0
4