تمدن کو بچانے کی ضرورت ہے
نئی نظمیں سنانے کی ضرورت ہے
وہ فلمیں جو سماجوں کو بدلتی ہیں
گھروں میں اب دکھانے کی ضرورت ہے
ہمارے سر پہ بیٹھے ہیں جو دانش ور
انھی کو اب پڑھانے کی ضرورت ہے
پھلوں کے ساتھ چھاؤں بھی جو دیتے ہوں
شجر ایسے لگانے کی ضرورت ہے
زمانے کے تقاضوں کو جو سمجھائیں
کتابیں وہ پڑھانے کی ضرورت ہے
مسلسل دائروں میں چل رہے ہیں ہم
سڑک سیدھی پہ جانے کی ضرورت ہے
جو غزلیں دیں تمدن کو نئی منزل
وہ غزلیں گنگنانے کی ضرورت ہے
GMKHAN

0
4