لیتے لیتے ترے قدوم بہت
تھک گئے ہیں مہ و نجوم بہت
ہر طرف اس کی یاد ہے موجود
خالی کمرہ ہے پر ہجوم بہت
جو مجھے بالخصوص ملتا تھا
یاد آتا ہے بالعموم بہت
جنگ اب وہ بقا کی لڑتے ہیں
پھول ، جن کی تھی پہلے دھوم بہت
خود کو عادت نہ اس حسیں کی ڈال
بے خودی میں اسے نہ چوم بہت
میں نے اپنے اصول وضع کیے
ورنہ دنیا میں ہیں رسوم بہت
یہی رہتا ہے اب قمرؔ افسوس
زندگی کم ہے اور علوم بہت
قمرآسیؔ

0