پوچھے کوئی کہ تم کو نبی سے ہے کیا ملا ؟
کہہ دو کہ ان سے مجھ کو خدا کا پتہ ملا
تشریف لائے یوں تو وہ سب سے اخیر میں
نبیوں میں پر انھی کو بڑا مرتبہ ملا
مانگا تھا میں نے تھوڑا ہی در پر حضور کے
دامن مرا مگر مجھے پورا بھرا ملا
سینے میں اک چراغ جلا ان کے ذکر سے
ظلمت میں روشنی کا مجھے سلسلہ ملا
رہتا تھا غم میں ڈوبا ہوا روز و شب مگر
نام نبی سے دل کو مرے حوصلہ ملا
یونسؔ یہ نعت گوئی ہے جس کے طفیل سے
جنت میں داخلے کا مجھے راستہ ملا

0
1
32
پوچھے کوئی کہ تم کو نبی سے ہے کیا ملا ؟
کہہ دو کہ ان سے ہم کو خدا کا پتہ ملا
== تقی میاں بہت ہی عمدہ - یہ شعر بہت اعلیٰ ہے - بس اتنا ہے کہ مصرع اولی کی ضمیر تم ہے تو مصرع ثانی میں ہم نہیں آئیگا - یا تو پہلے میں کسی طرح آپ لائیے یا دوسرے کی ضمیر مجھ کو کر دیجیئے -

تشریف لائے یوں تو وہ سب سے اخیر میں
نبیوں میں پر انہیں کو بڑا مرتبہ ملا
== صحیح - انھی لکھیں انہیں نہیں -

مانگا تھا میں نے تھوڑا ہی در پر حضور کے
دامن مرا مگر مجھے پورا بھرا ملا
== پہلا مصرع بہتر کیجیئے - یہ درَ نبی پر تھوڑا مانگنا چہ معنی دارد ؟

سینے میں اک چراغ جلا ان کے ذکر سے
ظلمت میں روشنی کا مجھے سلسلہ ملا
= اچھا ہے

رہتا تھا غم میں ڈوبا ہوا روز و شب مگر
نام نبی سے دل کو مرے حوصلہ ملا
= ٹھیک
یونسؔ یہ نعت گوئی ہے جس کے طفیل سے
جنت میں داخلے کا مجھے راستہ ملا
مصرعوں میں ربط نہیں ہے - آپ کو کہنا ہے کہ انھی سے جنت میں داخلے کا راستہ ملا جن کے طفیل یہ نعت گوئی ہے
- یہ بات ادا نہیں ہو رہی ہے -

0