خیالاتِ پیہم کی موجوں میں حیراں
زمیں پر پڑا فکرِ آفاق میں گم
کہیں لذتِ تازہ ایجاد میں مست
کہیں جستجوئے مئے و ساغر و خم
عجب کیفیت دل کے بیمار کی ہے
نخواہید فہمید ایں احوال را تم

6