| آنکھ سجدے میں نم ہو کے اچھی ہوئی |
| رب کو محبوب ہے آنکھ بھیگی ہوئی |
| میری گردن جھکی ہی نہیں آج تک |
| شرم سے سامنے رب کے نیچی ہوئی |
| عشق کی ہے نشانی، نہ انکار کر |
| آنکھ جاگی ہوئی زلف بکھری ہوئی |
| وہ ا کٹھے ہمیں دیکھ سکتے نہیں |
| دشمنوں نے بھی سازش ہے سوچی ہوئی |
| میرے سینے پہ اس نے رکھا ہاتھ تو |
| تب کہیں دھڑکنوں کی تسلی ہوئی |
| شہر سے اٹھ رہا ہے تعفن بہت |
| یہ زمیں جو لہو سے ہے سینچی ہوئی |
معلومات