کبھی یہ عذر عذاب جیسی
کبھی ثمر ہے ثواب جیسی
کبھی یہ دریا دلی کا پیکر
کبھی مسلسل حساب جیسی
کبھی فقیری کا اوڑھے چولا
کبھی مجسّم نواب جیسی
کبھی حقیقت کی ایک مورت
کبھی یہ پریوں کے خواب جیسی
کبھی تو شرم و حیا شرارہ
کبھی نظر بھی نقاب جیسی
کبھی یہ شعلوں کا شامیانہ
کبھی یہ برفیلے آب جیسی
کبھی سوالات صوفیانہ
کبھی یہ جلتے جواب جیسی
کبھی چنبیلی کبھی یہ چمپا
کبھی بسنتی گلاب جیسی
کبھی یہ کومل کنول کی کیاری
کبھی سمن کے شباب جیسی
ہے نازکی ان گلوں کی قاتل
نمک کہاں پر جناب جیسی
کبھی یہ راوی کی ہے روانی
کبھی یہ ستلج کے تاب جیسی
کبھی یہ جھیلم کی جھینی جھم جھم
کبھی یہ چنچل چناب جیسی
کبھی یہ نرمل ہے نرمدا سی
کبھی یہ گنگا کے آب جیسی
کبھی یہ پیاسی بناۓ صحرا
سرسوتی کے سراب جیسی
کبھی پپیہے کی پیہو پیہو
کبھی لرزتے عقاب جیسی
کبھی یہ مینا کی میٹھی مستی
کبھی یہ باز انقلاب جیسی
کبھی یہ چندا کی ہے چکوری
کبھی یہ سرخ آفتاب جیسی
کبھی دھنک سی ادائیں اسکی
ہے مورنی کے شباب جیسی
پڑھے نہ کوئی تو دوش اُسکا
کہ زندگی ہے کتاب جیسی

0
1