اک امتحان سے سارے امتحان نکلے
اور امتحان بھی ایسے ہیں کہ جان نکلے
جنت سے بھی نکالا اور پھر نہیں سنبھالا
اس طرح کا نہ کوئی بھی مہربان نکلے
الزام کس کو دیں اب برباد ہونے کاہم
جتنے ثبوت تھے سب تیرے نشان نکلے
آزاد ہوتے تو مرضی سے گزار جاتے
اب قید میں پرندوں کی کیا اڑان نکلے
خاموش آزمائش میں رہنا بھی ہے مشکل
مجبور ہوں جو میرے منہ سے زبان نکلے
سب لوگ شہر کے ہیں شاکر مرید لیکن
خواہش یہ ہے ہمارا وہ ترجمان نکلے

0
1