اے مرے آقا مری آنکھوں کا تارہ آپ ہیں
میرا دل میرا جگر میرا کلیجہ آپ ہیں
آپ ہم جیسے بشر ہیں خود کہا ہے آپ نے
ہاں مگر سارے بشر میں سب سے اعلیٰ آپ ہیں
ڈھانپ لینا روز محشر کالی کملی میں ہمیں
تیر گیئِ روز محشر میں سہارا آپ ہیں
یہ زمیں یہ آسماں سب آپ کے باعث بنے
میرے آقا وجہ تخلیقِ زمانہ آپ ہیں
آپ سا چہرہ زمانے نے کبھی دیکھا نہیں
سر سے لیکر پا ؤں تک رب کا کرشمہ آپ ہیں
رحمتِ عالم کہا اللہ نے قرآن میں
بالیقیں سب کے لئے رحمت سراپا آپ ہیں
کاملِ ایمان کو ہے شرط الفت آپ کی
یعنی ہر مومن کے ایماں کا تقاضہ آپ ہیں
کس طرف جائے تقیؔ کس کو پکارے حشر میں
ڈوبتی کشتی کا آقا بس سہارا آپ ہیں

16