| جو مجھے نام سے پہچانے، خطا میری ہے |
| نام کے بعد جو رہ جائے، ادا میری ہے |
| شہر والوں نے کئی نام دیے ہیں مجھ کو |
| آئنے میں جو بچی ہے وہ انا میری ہے |
| وہ جو ہر بار بجھانے پہ بھی جل اٹھتی ہے |
| ایک معصوم سی وہ ضدِ بقا میری ہے |
| رات بھر شہر کی دیوار پہ سایہ تھا کوئی |
| صبح دیکھا تو وہی شکلِ فنا میری ہے |
| کسی ویران دریچے میں ہوا ٹھہری تھی |
| اس کے پردے پہ جو لرزش ہے، ندا میری ہے |
| ایک پتھر جو یونہی گھر میں کہیں رکھا ہے |
| اس پہ برسوں سے جمی گردِ دعا میری ہے |
| ایک رستہ مرے قدموں سے جدا ہو کے گیا |
| اس کی مٹی میں جو باقی ہے وفا میری ہے |
معلومات