دلوں میں روشنی تقسیم کرتا جا رہا ہوں میں
چراغ اپنا جلا کر خود ہی جلتا جا رہا ہوں میں
کسی کے درد کو اپنا سمجھ لینا عبادت ہے
مسلسل اک یہی تو ورد جپتا جا رہا ہوں میں
جو سچ کے ساتھ چلتے ہیں وہی کم کم ہیں دنیا میں
مگر اس بھیڑ میں رہ کر بدلتا جا رہا ہوں میں
محبت بانٹنے والے کبھی خالی نہیں رہتے
یہ دریا بہہ رہا ہے اور چھلکتا جا رہا ہوں میں
کسی کے کام آ جانا ہی آخر اصل دولت ہے
خزانے چھوڑ کر رشتوں میں بٹتا جا رہا ہوں میں
ہوا کے ساتھ چلنے سے سفر آسان تو ہو گا
مگر کردار کی خوشبو سے سجتا جا رہا ہوں میں
زمانہ جیت لینے کی ہوس اچھی نہیں ہوتی
برابر ہار کر دل روز جیتا جا رہا ہوں میں
گماں گر ٹوٹتا انسان اپنے آپ سے ملتا
دکھا کر آئینہ کیا خود سنورتا جا رہا ہوں میں
ہنر اپنا ہے طارق دل سے دل تک راستہ رکھنا
یہی رستہ ہے جس رستے پہ چلتا جا رہا ہوں میں

0
6