کیف اترا تھا کوئی اور نکھر آئے نقوش
میں نے چاہے تھے محبت کے شجر، سائے، نقوش
بانسری درد بھری چھیڑی ہے چرواہے نے
کاش ایسا ہو کوئی دل سے مٹا جائے نقوش
مسکراتے ہوئے چہرے میں کئی غم تھے نہاں
جھانک کر دیکھا تو پھر میں نے وہاں پائے نقوش
میرے شعروں میں بھی تاثیر بڑی تھی لیکن
حسن کی دیوی چلی آئی، ستم ڈھائے نقوش
اس کی آنکھوں میں اداسی کی جھلک صاف دِکھی
دل بنا روگ مرا یوں کہ لگے پھائے نقوش
ڈھل تو جانا تھا کسی روز ترا حسن و جمال
ہائے یہ درد کہ چہرہ ہے دلاسائے نقوش
کل جسے میں نے نگاہوں میں بسایا تھا رشیدؔ
آ کے پہلو میں مرے روئے بہت ہائے نقوش
رشید حسرتؔ، کوئٹہ
۱۹، ستمبر، ۲۰۲۶

0
2